گئے دن

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - گزرے ہوئے ایام، بیتا ہوا زمانہ، ایام رفتہ۔ "مدتوں سے بے چاریاں اچھی گھڑی اور گئے دن پلٹنے کے انتظار میں تھیں۔"      ( ١٩٨٧ء، ابوالفضل صدیقی، ترنگ، ٣٤٠ )

اشتقاق

سنسکرت سے اردو میں ماخوذ مصدر 'جانا' سے فعل ماضی مطلق 'گیا' سے صیغہ جمع مذکر 'گئے' کے ساتھ فارسی سے ماخوذ اسم 'دن' بڑھانے سے مرکب وصفی بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور ١٩٨٧ء کو "ترنگ" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - گزرے ہوئے ایام، بیتا ہوا زمانہ، ایام رفتہ۔ "مدتوں سے بے چاریاں اچھی گھڑی اور گئے دن پلٹنے کے انتظار میں تھیں۔"      ( ١٩٨٧ء، ابوالفضل صدیقی، ترنگ، ٣٤٠ )

جنس: مذکر